ید الفطر یا عید عالم اسلام کا ایک مذہبی تہوار ہے جو کہ ماہ رمضان المبارک کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے اور ہر سال بڑی دھوم دھام سے یکم شوال کو منایا جاتا ہے جبکہ شوال اسلامی کیلنڈر کا دسواں مہینہ ہے۔ عید عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی٬ خوشی٬ جشن٬ فرحت اور چہل پہل کے ہیں جبکہ فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں یعنی ''روزہ توڑنا یا ختم کرنا''۔ عید الفطر کے دن روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے، اس روز اللہ تعالیٰ بندوں کو روزہ اور عبادتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، لہٰذا اس تہوار کو ''عید الفطر'' قرار دیا گیا ہے۔
عالم اسلام ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں عید الفطر اور عید الضحٰی۔ عید الفطر کا یہ تہوار جو کہ پورے ایک دن پر محیط ہے اسے ”چھوٹی عید” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جبکہ اسکی یہ نسبت عیدالاضحیٰ کی وجہ سے ہے کیونکہ عید الاضحیٰ تین روز پر مشتمل ہے اور اسے ” بڑی عید” بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں سورت البقر (185آیت) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ہر مسلمان پر ماہ رمضان کے تمام روزے رکھنا فرض ہیں جبکہ اسی ماہ میں قرآن مجید کے اتارے جانے کا بھی تذکرہ ہے لہٰذا اس مبارک مہینے میں قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے۔
عمومی طور پر عید کی رسموں میں مسلمانوں کا آپس میں ”عید مبارک” کہنا٬ گرم جوشی سے ایک دوسرے سے نہ صرف ملنا بلکہ آپس میں مرد حضرات کا مردوں سے بغل گیر ہونا٬ رشتہ داروں اور دوستوں کی آؤ بھگت کرنا شامل ہیں۔ علاوہ ازیں بڑ ے بوڑھے بچے اور جوان نت نئے کپڑے زیب تن کرتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں، ایک دوسرے کی دعوت کرتے ہیں، مختلف قسم کے کھانے پکائے جاتے ہیں اور جگہ جگہ میلے ٹھیلے منعقد ہوتے ہیں٬جن میں اکثر مقامی زبان اور علاقائی ثقافت کا عنصر بھی شامل ہوتا ہے۔
خصوصی طور پر مسلمان صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے بیدار ہوتے ہیں اور نماز فجر ادا کرتے ہیں پھر دن چڑھے ایک مختصر سا ناشتہ یا پھر کھجوریں کھانے پر ہی اکتفا کرتے ہیں جو کہ ایک طرح سے اس دن روزہ کے نہ ہونے کی علامت ہے۔ مسلمانوں کی ایسے مواقع پر اچھے یا نئے لباس زیب تن کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ نئے اور عمدہ لباس پہن کر مسلمان اجتماعی طور پر عید کی نماز ادا کرنے کے لیے مساجد٬ عید گاہوں اور کھلے میدانوں میں جاتے ہیں۔ نماز عید میں آتے اور جاتے ہوئے آہستہ تکبیریں کہنا اور راستہ تبدیل کرنا سنت ہے۔ عید کے روز غسل کرنا، خوشبو استعمال کرنا، اور اچھا لباس پہننا سنت ہے۔ عید الفطر کے روز روزہ رکھنا حرام ہے۔
عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزہ کے برابر بلند ہونے سے ''ضحو ہ کبریٰ'' تک ہے۔ ضحو ہ کبریٰ کا صبح صادق سے غروب آفتاب تک کے کل وقت کا نصف پورا ہونے پر آغاز ہوتا ہے۔ ہر نماز کے ادا کرنے سے پہلے اذان کا دیا جانا اور اقامت کہنا ضروری ہے مگر عید کی نماز کو اذان اور اقامت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جبکہ اس نماز کی صرف دو رکعات ہوتی ہیں پہلی رکعت میں ثناء کے بعد اور دوسری رکعت میں قرآت سورت کے بعد ہاتھ اٹھا کر تین تین زائد تکبیریں مسنون ہیں۔ عیدالفطر کی نماز کے موقع پر خطبہ عید کے علاوہ بنی نوع انسانیت کی بھلائی اور عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں جس میں اللہ تعالیٰ سے کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے اللہ تعالیٰ سے اسکی مدد اور رحمت مانگی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں خطبہ عید میں عیدالفطر سے متعلق مذہبی ذمہ داریوں کی تلقین کی جاتی ہے جیسے فطرانہ کی ادائیگی وغیرہ۔ اسکے بعد دعا کے اختتام پر ہر فرد اپنے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے افراد کو عید مبارک کہتا ہوا بغل گیر ہو جاتا ہے۔ نماز کی ادائیگی کے بعد لوگ اپنے رشتہ داروں٬ دوستوں اور جان پہچان کے تمام لوگوں کیطرف ملاقات کی غرض سے جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ زیارت القبور کی خاطر قبرستان کی طرف جاتے ہیں۔
شوال یعنی عید کا چاند نظر آتے ہی رمضان المبارک کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے جبکہ ہر ایک مسلمان کی زبان سے بے اختیار اللہ کی عظمت کی اور شان کے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں یعنی آہستہ آواز سے تکبیریں کہی جاتی ہے: یعنی اللہ اکبر اللہ اکبر، لاالہ الا اللہ، واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد تکبیر کہنے کا یہ سلسلہ نماز عید ادا کرنے تک چلتا ہے۔ عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے ہر صاحب استطاعت مسلمان مرد و عورت پر صدقہ فطر یا فطرانہ ادا کرنا فرض جو کہ ماہ رمضان سے متعلق ہے۔ مندرجہ ذیل چند باتیں بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں: جنکا بیان احادیث مبارکہ میں واضح طور پر موجود ہے:
صدقہ فطر فرض ہے۔ صدقہ فطر نمازِ عید سے قبل ادا کرنا چاہیے ورنہ عام صدقہ شمار ہوگا۔
صدقہ فطر ہر مسلمان مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹے، بڑے سب پر فرض ہے۔
صدقہ کی مقدار ایک صاع ہے جو پونے تین سیر یا ڈھائی کلو گرام کے برابر ہے۔
گیہوں، چاول، جو، کھجور، منقہ یا پنیر میں سے جو چیز زیر استعمال ہو، وہی دینی چاہیے۔
صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے‘ لیکن نماز عید سے پہلے تک ادا کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ اسکی مقدار مندرجہ بالا اجناس کی نسبت سے ہے البتہ ان کے علاوہ اس کے برابر قیمت کیش کی شکل میں بھی ادا کی جا سکتی ہے جسکا تعین مقامی طور کیا جاتا ہے اور زیادہ تر مساجد میں ادا کردیا جاتا ہے یا پھر مقامی ضرورت مندوں٬ غربا اور مساکین میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
اسلامی روایات میں عید الفطر ماہ رمضان المبارک کے اختتام کی ایک علامت ہے جبکہ مسلم برادری میں روزہ بنیادی اقدار کا حامل ہے۔ علماء کے نزدیک بنیادی طور پر روزہ کا امتیاز یہ ہے کہ اسے انسان کی نفسی محکومی پر روحانیت کی مہر ثبت کرنا تصور کیا جاتا ہے۔ اقوام عالم میں مسلم امہ عید کا تہوار بڑے شاندار انداز میں مناتے ہیں۔
ہجرت مدینہ سے پہلے یثرب کے لوگ دو عیدیں مناتے تھے، جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول ہوتے اور بے راہ روی کے مرتکب ہوتے۔ خالص اسلامی فکر اور دینی مزاج کے مطابق اسلامی تمدن، معاشرت اور اِجتماعی زندگی کا آغاز ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوا، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں عیدین کا مبارک سلسلہ شروع ہوگیا تھا جس کا تذکرہ سنن ابی داؤد کی حدیث میں ملتا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل مدینہ دو دن بہ طور تہوار منایا کرتے تھے جن میں وہ کھیل تماشے کیا کرتے تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا فرمایا: یہ دو دن جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟ ( یعنی اب تہواروں کی اصلیت اور تاریخی پس منظر کیا ہے ؟) انہوں نے عرض کیا کہ ہم عہد جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) یہ تہوار اسی طرح منایا کرتے تھے۔ یہ سن کر رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں تمہارے لیے ان سے بہتر دو دن مقرر فرما دیے ہیں، یوم (عید) الاضحٰی اور یوم (عید) الفطر۔ غالباً وہ تہوار جو اہل مدینہ اسلام سے پہلے عہد جاہلیت میں عید کے طور پر منایا کرتے تھے وہ نوروز اور مہرجان کے ایام تھے، مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تہوار منانے سے منع فرما دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بدلے میں اپنے خصوصی انعام و اکرام کے طور پر عید الفطر اور عید الاضحٰی کے مبارک ایام مسلمانوں کو عطا فرمائے ہیں۔
رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق جب مسلمانوں کی عید یعنی عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے، اے میرے فرشتوں! اس مزدور کی کیا جزاء ہے جو اپنا کام مکمل کر دے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اسکی جزاء یہ ہے کہ اس کو پورا اجر و ثواب عطا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے فرشتوں! میرے بندوں اور باندیوں نے اپنا فرض ادا کیا پھر وہ (نماز عید کی صورت میں) دعاء کیلئے چلاتے ہوئے نکل آئے ہیں، مجھے میری عزت و جلال، میرے کرم اور میرے بلند مرتبہ کی قسم! میں اِن کی دعاؤں کو ضرور قبول کروں گا۔ پھر فرماتا ہے: بندو! تم گھروں کو لوٹ جاﺅ میں نے تمہیں بخش دیا اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔
نبی پاک صلی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: پھر وہ بندے (عید کی نماز سے) لوٹتے ہیں حالانکہ انکے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں''
قرآن مجید میں سورہ ء المائدہ کی آیت 114 میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک دعا کے حوالے سے عید کا ذکر موجود ہے :ارشاد باری تعالیٰ ہے :
عیسی ابن مریم نے عرض کیا کہ اے اللہ ! ہمارے پروردگار ! ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار دے (اور اس طرح اس کے اترنے کا دن ) ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لیے (بہ طور) عید (یادگار) قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔ (5:114)
اس سے اگلی آیت میں ارشاد ہے :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں یہ (خوان) تم پر اتار تو دیتا ہوں، مگر اس کے بعد جو کفر کرے تو میں اسے ایسا عذاب دوں گا جو سارے جہانوں میں اور کسی کہ نہ دیا ہو۔
کسی قوم کی خوشی اور مسرت کے دن کا قرآن نے عید کے عنوان سے ذکر کیا ہے اور جو دن کسی قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی کسی خصوصی نعمت کے نزول کا دن ہو وہ اس دن کو اپنا یوم عید کہہ سکتی ہے۔
آج پوری دنیا میں مسلمان بڑی دھوم دھام سے عید الفطر کا تہوار مناتے ہیں جہاں خوشی منانے کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاقی اقدار کی پاسداری بھی کی جاتی ہے۔ جبکہ اقوام عالم امت مسلمہ کے اس تہوار کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان میں جو کہ ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے عید بڑے شاندار طریقے سے منائی جاتی ہے۔ سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ بچہ ہو یا بڑا عید کی تیاری میں جوش و خروش کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ خواتین اور بچوں کی تیاری تو قابل دید ہے۔ عید کی تیاری میں نت نئے لباس و دیگر لوازمات کی شاپنگ دیکھنے کو آتی ہے جو کہ ایک زندہ قوم کی روح رواں کے طور پر سامنے آتی ہے۔
چاند رات کو تو ایک جشن کا سماں بند جاتا ہے بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی۔ خواتین عید کی شاپنگ میں مصروف نظر آتی ہیں اور اس روز کی شاپنگ میں مہندی٬ چوڑیاں اور عید کارڈ وغیرہ کی خریداری نمایاں نظر آتی ہے۔ جبکہ مختلف مقامات پر خصوصی عید بازاروں کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ جن میں خاصی تعداد میں نوجوان دوکاندار نظر آتے ہیں۔ عید کے پیغامات کا سلسلہ تو چاند نظر آنے کے بعد سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ موبائل ایس ایم ایس کی گھنٹیوں کا سلسلہ باندھ لیتے ہیں جبکہ جدت کے عنصر کے باعث انٹرنیٹ ای میل کی وساطت سے خوبصورت عید کارڈ کے پیغامات دوست و احباب کو ارسال کئے جاتے ہیں۔ خصوصی طور پر پیاروں کو یاد کیا جاتا ہے اور اس تیز رفتار زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں کہ ان لوگوں کو جو عزیز ہوتے ہیں مگر مصروفیت کے باعث وقتی طور پر بھلا چکے ہوتے ہیں ان سے روابط استوار کیے جاتے ہیں۔ روٹھوں کا منایا جاتا ہے نفرتوں پر پیار کی آبیاری کی جاتی ہیں۔
پاکستان میں عید کے روز ہر گھر میں صبح کے وقت سویاں پکائی جاتی ہے اور اس کا ناشتہ کیا جاتا ہے۔ سویاں پاکستان کے علاوہ بھارت اور چلی میں بھی عید کے روز پکانے کا رواج ہے۔ہمارے ہاں عید منانے کی تیاریاں عموما پہلے ہفتے سے ہی شروع ہو جاتی ہیں اور لوگ نئے کپڑوں کی خریداری اور سلائی میں مشغول ہو جاتے ہیں ، نئے جوتے خریدے جاتے ہیں،بازاروں میں رش بڑھ جاتا ہے دکاندار اشیاء کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں اور ایک دوسرے سے مہنگی خریداری کی جاتی ہے۔ اب تو عید ایک نمود و نمائش کا موقع بن چکا ہے۔ مختلف کھانے پکائے جاتے ہیں اور اپنے سے چھوٹوں کو عید دی جاتی ہے اور بڑوں سے وصول کی جاتی ہے۔ یہ عیدی تحفوں کے علاوہ نقد رقم پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس روز ہر شہر، دیہات اور گاؤں میں سرکس اور میلے لگتے ہیں۔ البتہ ایک بات نوجوانوں کی بہت خطرناک ہے آج نوجوان سڑکوں پر گھڑ سواری نہیں کرسکتے البتہ موٹر سائیکل یا بائیسکل سے اپنی تشنگی پورا کرتے ہیں۔ نوجوان موٹر سائیکل کو تیز چلانے کے دوران اچانک اگلا پہیہ ہوا میں اٹھا دیتے ہیں اور سارا وزن پچھلے پہیے پر ڈال دیتے ہیں اور اس طرح موٹر سائیکل ایک پہیہ پر چلتی ہے۔ اس عمل کو ون ویلنگ کہا جاتا ہے۔ ایک طرف اگر دور سے دیکھنے والے یہ منظر بڑا دلربا محسوس ہوتا ہے تو دوسری طرف موٹر سائیکل چلانے والے کو ایک انجانی لذت کا احساس ہوتا ہے جو اسے بار بار اس موت و زندگی کا کھیل کھیلنے پر مجبور کرتا ہے۔ ون ویلنگ کرنے والے کو اس کا انجام معلوم نہیں کہ کھیل ہی کھیل میں کیا نقصان ہوسکتا ہے۔ نوجوان ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے شوق میں اکثر اپنے ہنستے بستے خاندان کو غمناک المیہ سے دوچار کر جاتے ہیں۔ موٹر سائیکل کا توازن اگر برقرار نہ رہے تو اس کی انتہائی قیمتی جان پلک جھپک میں موت کا شکار ہوجاتی ہے۔حکومت کی طرف سے اس موت و زندگی کے کھیل کو روکنے کی کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی گئی لہذا جب کبھی کوئی تہوار، عید و میلہ کا موقع ہوتا ہے من چلے کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اپنا ون ویلنگ کا شوق ضرور پورا کرتے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس عمل سے نوجوانوں کو روکا جائے انسانی جان سے زیادہ قیمتی چیز اس دنیا میں کوئی نہیں .
تمام قارئین کو میری طرف سے عید مبارک اور امید ہے کہ سب لوگ رسمی رکھ رکھاؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے سے کم رتبہ اور غریب لوگوں کو بھی گلے سے لگائیں گے کیونکہ سچی خوشی تو وہی ہے جو آپ کو ردعمل کے طور پر ملے اور جب کسی دکھی٬ غریب٬ کمزور کو سینے سے لگایا جاتا ہے تو یقین مانیں یہ حالت آپکی مسرتوں میں اضافہ کا باعث بنے گی۔ عید کے موقع پر نفرتوں کو بھول کر نہ صرف اپنوں بلکہ غیروں کو بھی گلے سے لگا لینا چاہئے۔ عید کا دن پھر ہی یاد گار بن سکتا ہے اگر ہم ایسے نقش چھوڑ جائیں کہ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں بکھیر دیں۔
عید پر سعید کے موقع پر اپنی خوشیوں میں انکو ضرور شامل کریں جن کا کوئی پوچھنے والا نہیں، کیونکہ اسلامی معاشرہ مساوات اور روداری کا درس دیتا ہے جبکہ سب ارکان اپنی جداگانہ اہمیت رکھتے ہیں کسی کو اس خوشی کے موقع پر کسی کمی کا احساس نہ رہے، جو نعمت اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہے دوسروں کو اس میں شامل کریں۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اور یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی تو زندگی کی راہوں میں تازگی اور مسرتوں کے چراغ ہیں اگر انکی روشنی دوسروں کی راہوں میں بکھیر دی جائے ان میں کمی نہیں ہوگی۔ اسکے ساتھ ساتھ والدین کو خصوصی وقت دینا چاہیے کیونکہ زندگی کے انتہائی تیز رفتار شب و روز میں اکثر بزرگوں کو دینے کیلئے ہر چیز ہم خرید کر تو دے دیتے ہیں اور اشیا صرف کا انبار بھی لگا دیتے ہیں مگر ایک چیز جسکی شدید کمی ہے اور وہ وقت ہے جو ہم لوگ اپنے والدین اور بزرگوں نہیں دے پاتے، کبھی انکی آنکھوں میں چھپی ہوئی یاسیت اور تکان کو پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ عید کا دن جہاں پیار محبت اور خوشیاں بانٹنے کا دن ہے وہاں نفرتوں ، ملامتوں اور ناراضگی کے مٹانے کا بھی دن ہے، آئیے اپنے اقربا اور احباب کی کھوئی ہوئی مسکان انکو لوٹا دیں جو کبھی کی رشتوں کی کڑواہٹ کے بھینٹ چڑھ چکی ہے، نہ معلوم اگلی عید کے موقع پر اسکے چکانے کا موقع ملے نہ ملے۔ رب العزت سے دعا ہے کہ سب کی دلی مرادیں پوری کرے اور ہم سب کو دائمی خوشی سے نوازے اور سب کو بار بار لاثانی مسرتوں سے لبریز عید کے مواقع دیکھنے نصیب کرے !!! آمین
Top News
Breaking
ارتھ شاستر تقریباً تین سو سال قبل مسیح میں لکھی گئی کتاب ہے اسے موریہ خاندان کے وزیر سیاست کوٹلیہ عرف چانکیہ نے لکھا تھا جاسوسی کی یہ کتاب ہندو ذہنیت کا مکمل آئینہ ہے اس میں راجہ کو اپنی حکومت کو طول دینے کے لئے ہر ناجائز اور ظالمانہ فعل کو جائز قرار دیا گیا اور ہمسایہ ملکوں اور راجدھانیوں کو تباہ کرنے اور ان کے لئے امن و امان کے مسائل کھڑے کر کے انہیں کمزور کرنے اور اپنی حکومت اور ملک کے لئے فائدہ اٹھانے کے طریقے بتائے گئے تھے۔ ہندو ذہنیت ہمیشہ سے شاطر، چالباز اور تخریب کار رہی ہے صدیوں کے گزرنے نے اس پر کوئی اثر نہ ڈالا 1968 میں انہی اصولوں اور ضابطوں پر عمل کرنے کے لئے ارتھ شاستر کو چانکیہ سمیت پھر زندہ کر کے اسے ہندو ذہنیت نے را کا نام دیا۔ را کا بڑا مقصد بھی وہی ٹھہرا کہ ہمسایہ ممالک کو چین اور سکون سے نہ رہنے دیا جائے ان کے امن و امان کو تہہ و بالا کیا جاتا رہے ہوس ملک گیری میں انسانی جانوں سے کھیلا جاتا رہے اور انہیں امن اور سکون کو ترسا دیا جائے۔ را یہ کام چانکیہ جی کے متعدد چیلوں سے لیتی رہتی ہے وہ اپنے جاسوس بھی بھیجتی ہے اور ہمسایہ ممالک میں ضمیر فروشوں کو اچھے داموں خرید کر بھی یہ کام کرتی ہے۔ اپنے بے حساب بجٹ کی وجہ سے یہ کام اسکے لئے مشکل بھی نہیں ہوتا۔ را کے قیام کا سب سے بڑا مقصد پاکستان کو نشانہ بنانا تھا لیکن اس نے اپنے مذہب اور تاریخ کی تعلیمات کے عین مطابق اپنے دیگر پڑوسیوں کو بھی مسلسل نقصان پہنچایا جس کی بڑی مثال سری لنکا ہے جہاں تامل ٹائیگرز کو بے تحاشا اسلحہ اور پیسہ بھی دیا گیا اور تربیت بھی اور تقریباً تیس سال تک اس مکروہ فعل کو جاری رکھا گیا۔ سب سے پہلے ادھر ہی خودکش حملوں کے ذریعے فساد پھیلایا گیا لیکن تاملوں کے دل میں بغاوت بنام ’’آزادی‘‘ کا جو بیج بویا گیا پربھاکرن کی موت کے بعد آزادی کی یہی خواہش تامل ناڈو میں بھارتی تاملوں کی خواہش بننے لگی ہے۔ سری لنکا میں تو جو کیا گیا وہ کیا گیا پاکستان کو اپنے قیام سے لیکر اب تک کسی موقع پر بھارت نے معاف نہ کیا اور را نے اپنی اس ’’ڈیوٹی‘‘ کو بڑی تندھی سے انجام دیا ہے۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندوں اور مکتی باہنی جیسی تنظیموں کے ذریعے اس نے جو انسانیت سوز مظالم کئے وہ تو تاریخ کا حصہ ہیں لیکن بنگلہ دیش بننے کے بعد اس نے بنگلہ دیش کو بھی سکون سے نہ رہنے دیا اور آسام اور بنگال میں آزادی کی تحریکوں میں اسے ملوث قرار دے کر اپنی تخریبی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان دہشت گردی کی جس حالیہ لہر سے گزرا ہے اور گزر رہا ہے اس سے را کو کسی طرح بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنا مکروہ کھیل مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے سوات میں لوگوں کو دیکھ کر یہی خیال آتا رہا ہے کہ را نے کسطرح سالوں تک انکی زندگی اجیرن بنائے رکھی۔ سوات میں طالبان کے نام پر غیر مسلم لاشوں کا ملنا ہی اس بات کا ثبوت تھا کہ یہ لوگ نہ تو مقامی ہیں نہ کسی دوسرے مسلمان ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھارتی ساختہ اسلحہ ان لوگوں کے عام استعمال میں رہا۔ را نے اپنے خزانوں کے منہ کھلے رکھے اور ایک رپورٹ کے مطابق سوات کے دہشت گردوں پر را نے تقریباً 650 ملین روپے خرچ کئے ورنہ اس قدر وافر اسلحہ، روپیہ اور دوسرے ذرائع یہ لوگ مقامی ذرائع میں کس طرح ممکن بناسکتے تھے۔ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ چندے سے ایسا کیا گیا تو کیا غریب عوام اتنا روپیہ جمع کر سکتے ہیں جس سے جدید اسلحہ خریدا جاسکے۔ جدید ترین انفارمیشن ٹیکنالوجی خریدی بھی جائے اور استعمال بھی کی جائے جبکہ سب ہی جانتے ہیں کہ ان تحریکوں کے لیڈران نہ تو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے نہ ہی اعلیٰ تربیت یافتہ پھر وہ کیسے ان ٹیکنیکل معاملات کو سنبھالے ہوئے تھے۔
بلوچستان میں تو را کی مداخلت خیر اب ایک ایسی ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے جسے کسی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ براہمداغ سمیت بی ایل اے کی نام نہاد لیڈر شپ را کی مدد سے ہی لیڈر بنے ہیں۔ بالکل اسی طرح جسطرح طالبان میں عہدے تقسیم کئے گئے انہیں بڑے لیڈر بنا دیا گیا جبکہ وہ مکمل ان پڑھ اور دین سے بے خبر لوگ تھے۔ بیت اللہ محسود را کا ایک اور لاڈلا تھا جسے طلسماتی اور کرشماتی شخصیت بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ بلوچستان ہی کی بات کو اگر آگے بڑھایا جائے تو جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکی ہوں کہ را اس وقت دنیا کی ناکام ترین خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا دست راست بنا ہوا ہے تاکہ پاکستان کے عدم استحکام کی اپنی خواہش بھی پوری کر سکے اور سی آئی اے سے بلوچستان کی معدنی دولت میں اپنا حصہ بھی وصول کر سکے۔ سی آئی اے کو میں نے ناکام اسلئے کہا کہ اب تک کوئی قابل ذکر کامیابی اس کے حصے میں نہیں آسکی۔ ویتنام سے لیکر عراق اور افغانستان تک ہر میدان میں اسے ناکامی کا ہی منہ دیکھنا پڑا نہ تو اس کی اطلاعات درست نکلی اور نہ اندازے۔
را خود تو پاکستان کے خلاف ہے ہی سرگرم عمل اب تو اس نے افغانستان کی خفیہ ایجنسی رام ﴿ریاست امانت ملیہ﴾ کو تربیت دینا شروع کی ہے تاکہ وہ پاکستان میں تخریبی کاروائیاں زیادہ مہارت سے کر سکے۔ افغانستان میں رام، سی آئی اے اور را مل کر منشیات سے اپنے فنڈز بناتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ تینوں ایجنسیاں جانتی ہیں کہ احمد ولی کرزئی منشیات کا کتنا بڑا اسمگلر ہے لیکن اسے حامد کرزئی کا بھائی ہونے کا فائدہ دیا جارہا ہے یہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور دیانت ہے۔
اگر اس بات کا تجزیہ کیا جائے کہ را کے پاکستان کے خلاف عزائم کیا ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے اس کا پہلا مقصد تو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے تاکہ پاکستان ترقی کی دوڑ میں سب سے پیچھے رہے۔ دوسرا مقصد جسے را کبھی پورا نہ کر سکے گا﴿انشاﺀ اللہ﴾ وہ ہے پاکستان کے خدانخواستہ ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اسی مقصد کے لئے اس نے بلوچستان میں سی آئی اے کی مدد کا فیصلہ کیا جسکی نظر وہاں کے ان قیمتی معدنی ذخائر اور توانائی کے پوشیدہ ذرائع پر ہے جسے وہ برس ہا برس تک استعمال کر سکتا ہے۔ ایک اور بڑا مقصد را کی کاروائیوں کا یہ ہے کہ کسی طرح پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کر لیا جائے جو بھارت کا علاقے کی سپر پاور بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔1998 میں بھارت نے جب ایٹمی دھماکے کئے تو بزعم خود اس کا خیال تھا کہ اب وہ پاکستان اور ارد گرد کے دوسرے ممالک کو ہضم کر جائے گا یا طفیلی ممالک بنا دے گا۔ لیکن جب جواب میں پاکستان نے دھماکے کئے تو اس کا یہ خواب چکنا چور ہو گیا اور نہ صرف یہ کہ پاکستان ہندو جنونیت سے محفوظ ہوگیا بلکہ دوسرے ملک بھی اس کی دست برد سے بچ گئے۔
آجکل بھارت اور را ایک اور کام بڑی جانفشانی سے کر رہے ہیں اور وہ ہے ہمارے عسکری اداروں اور آئی ایس آئی کے خلاف زبردست پروپیگنڈا مہم یعنی دنیا میں ہونے والے ہر ناخوشگوار واقعے میں آئی ایس آئی کا ہاتھ ثابت کرنا اور یوں افواج پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنا اور ملک کے اندر اور باہر فوج کو بدنام کرنا۔ را نہ صرف یہ کہ مختلف علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے بلکہ دیگر مختلف واقعات میں بھی ملوث رہتا ہے۔ کبھی اپنے ملک میں کبھی دوسرے ملک میں جیسے ممبئی بھی را کا ہی رچایا ہوا ڈرامہ تھا اور اسی طرز پر ایک ڈرامہ اس نے لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے کی صورت میں رچایا۔ مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر، میریٹ، پی سی پشاور اور ایسے دیگر واقعات میں را ملوث رہا۔ ڈیرہ بگٹی سے پکڑے جانے والے ایک دہشت گرد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں بھارتی سپورٹ حاصل ہے۔
خفیہ ایجنسیاں جب اپنے ملکی مفادات کا تحفظ کریں تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن جب دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت کریں تو یقیناً دہشت گرد بن جاتی ہیں اور بجا طور پر تخریبی ایجنسیاں کہلانے کی مستحق ہو جاتی ہیں۔ را ایسی ہی ایک تخریبی ایجنسی ہے جو اپنے لیڈروں کی خواہشات اور تصورات کے عین مطابق کام کرتی ہے۔ جواہر لال نہرو کوٹلیہ چانکیہ کا بہت بڑا مداح تھا اور اسکے جانشینوں نے انہی ظالمانہ اصولوں کو بنیاد بنا کر را کی بنیاد رکھی اور اسے دوسروں کے لئے وبال جان بنا دیا۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اس کی مکاریوں اور عیاریوں سے باخبر رہے تو ان کی کامیابی کے امکانات خود بخود ختم ہوتے جائیں گے۔
وہ کاشف کی پانچ سال پرانی شاگردہ تھی۔آج بازار میں ایک دکان میں اچانک اس کی نظر کاشف پر پڑی تو فوراً اس کی طرف لپک آئی۔اتنے تپاک سے ملی کہ وہ شاگرد نہیں بلکہ کوئی پرانی دوست لگ رہی تھی۔ اس نے کہا سر میں ابھی کنواری ہوں، آپ کب فری ہوتے ہیں میں گھر آؤں گی۔ اسے باتوں باتوں میں یہ دھیان بھی نہ رہا کہ کاشف کے ساتھ اس کی بیوی بھی ہے اور اس کی شادی ابھی کچھ ماہ پہلے ہی ہوئی ہے اور ابھی فریقین شک شبہ کی کیفیت سے مکمل آزاد بھی نہ ہوئے تھے۔
تہمینہ شروع ہی سے بہت بے باک سی لڑکی تھی۔اس میں مشرقی لڑکیوں والی ہچکچاہٹ کم دیکھنے کو ملتی تھی۔وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔لاڈ پیار بھی اس معاملے میں بنیادی رول پلے کرتے ہیں اور کچھ لوگوں کی طبیعت بھی کھلی ڈھلی ہوتی ہے۔ بات دل میں رکھنے کی بجائے زبان پے رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔تہمینہ بھی ایسے لوگوں میں سے واقع ہوئی تھی۔شکل وصورت کے لحاظ سے درمیانے درجے میں تھی۔نہ اس قدر حسین کہ شہر دیوانہ ہو اور نہ اس قدرغریب کہ کسی کا دیکھنے کو دل ہی نہ چاہے۔ اس کے چہرے پر کشش کے کچھ عناصر ضرور جلوہ گر تھے۔اور محبت تو ان باتوں سے ویسے ہی آزاد ہے۔
حسنِ اتفاق سے تہمینہ کو کس سے اور جس کو تہمینہ سے محبت ہوئی وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا ممیرا کزن آصف تھا۔اتفاق سے آصف کو بھی قدرت نے بہن بھائیوں کے بندھنوں سے آزاد ہی رکھا تھا۔ دونوں کی رہائش بھی ایک ہی محلے میں تھی اور دونوں ہم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ ہم مزاج بھی تھے۔دل کے کھرے ، زبان کے نڈرے۔دل و زبان کی یکجائی کسی کسی کو ملتی ہے۔دونوں کو ایک دوسرے کی یہ عادت بہت پسند تھی۔
بی اے کی تیاری کے لئے جب تہمینہ نے کاشف صاحب کے پاس اکیڈمی رکھی تو اسے لانے اور لے جانے کی ذمہ واری آصف کے ملتجی کندھوں پر ہی آئی۔تہمینہ کی کلاس کی لڑکیاں اکثر تعجب کا اظہار کرتیں کہ تہمینہ کو کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اپنے کزن کے ساتھ ایسے پھرتی ہے جیسے۔۔۔۔۔۔۔تہمینہ کو یہ باتیں اتنی بری نہ لگتیں کیونکہ وہ اصل بات بھی جانتی تھی اور اسے کسی کا ڈر بھی مارا نہیں تھا۔لیکن جب کاشف صاحب نے خود ایک دن اسے ایسی باتوں پر کچھ سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے انہیں صاف صاف بتا دیا کہـــ اس کی آصف سے منگنی ہو چکی ہے ااور وہ جلد ہی ا شادی بھی کرنے والے ہیں۔ ان کے درمیان کسی قسم کاکوئی غلط تعلق ہرگز نہیں ہے۔ یہ اس کی مجبوری ہے کہ آصف کے علاوہ اسے اکیڈمی لانے اور لیجانے والا کوئی نہیں ہے۔کاشف صاحب ان باتوں سے کافی زیادہ مطمئن ہو گئے تھے۔اور کچھ ہی دنوں بعد ان کو سرکاری ملازمت ملنے سے انہیں کسی دوسرے شہر جانا پڑا۔
ایک دن آصف تہمینہ کو اس کے گھر ڈراپ کرنے لگا تو اسے پتہ چلا کہ اس کے ماں باپ بھی تہمینہ کے گھر آئے ہوئے ہیں۔اس نے تہمینہ سے جانے کی اجازت چاہی تو اس نے اسے اندر آنے کو کہا۔ وہ اندر گئے تو دونوں کے والدین ان کی شادی کی تاریخ طے کرنے کی باتیں کر رہے تھے۔یہ باتیں گھر میں ویسے بھی کچھ دنوں سے چل رہی تھیں۔ دونوں کے والدین بھی ان کی محبت اور قربت سے خوش تھے اور ان کو جلد ہی ازدواجی زندگی میں اکٹھا کر دینا چاہتے تھے۔کیونکہ زمانے کی زبان کو کون روک سکتا ہے۔
زمانے کی زبان کو کوئی نہیں روک سکتا تو زمانے کی چال کو بھی کوئی نہیں روک سکتا۔گھر میں انتہائی خوشی اور شادمانی کا سماں تھا۔دونوں خاندانوں کو ایک دوسرے سے بہتر مل بھی نہ سکتا تھا۔اور سب سے بڑی بات کہ لڑکی لڑکا ایک دوسرے کو حد سے زیادہ چاہتے تھے۔
ابھی دل مستقبل کے جھولے میں بیٹھے کا سوچ ہی رہے تھے کہ قسمت نے اپنا ستم کر دکھایا۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ آصف سمجھا کوئی دوست یا رشتہ دار آیا ہو گا ۔اس نے دروازہ کھولا۔تین آدمی، پنٹ شرٹ پہنے، آنکھوں پر کالی عینکیں لگائے ،زبردستی اندر گھس آئے۔انہوں نے اندر آتے ہی ریوالور نکال لیے۔ آدمیوں کے ہینڈزاپ کروادیے،اور خواتیں سے کہا کہ جو کچھ پہنا ہے اتار دیں اور جو کچھ رکھا ہے خود ہی نکال کے ان کے حوالے کر دیں۔یہ تو کوئی فلمی سین کی کیفیت بن گئی تھی لیکن یہ حقیقت تھی کوئی خواب یا ڈرامہ نہ تھا۔گھر میں سناٹا چھا گیا۔ موبائل بھی انہوں نے اپنے قبضے میں لے لئے۔ اور تمام افرا د کو خوب ڈرا دیا۔سب سہم گئے۔دو افراد لوٹنے میں مصروف رہے اور ایک گھر والوں پر ریوالور تانے کھڑا رہا۔
کوئی آدھ گھنٹے تک انہوں نے اپنا کام تسلی سے کیا۔ زیورات اور قیمتی چیزیں ایک تھیلے میں باندھ کر جب وہ جانے لگے تو آصف نے ان میں سے ایک کا ریوالور چھیننے کی ناکام کوشش کی۔انہوں نے اس پر فائر کر دیا پھر دوسرا فائر کیاکو کہ آصف کے دل کے قریب لگا اور وہ ڈکیت فرار ہو چکے تھے۔ آصف زمین پے گرا آخری سانسیں لے رہا تھا اور اس کے چاہنے والے خاص طور پے تہمینہ اس کے جسم سے لپٹ کے نا قابلِ بیان انداز میں رو رہی تھی۔خون بہہ رہا تھا اور آصف کا وجود ٹھنڈا ہو رہا تھا۔کچھ ہی دیر میں واویلا سن کے آس پاس کے لوگ بھاگے آئے تھے۔ انہوں نے آصف کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہسپتال لے جانے کی سبیل کی لیکن قدرت آصف کی زندگی مکمل کر چکی تھی۔
مرنے والوں کے ساتھ مرا تو نہیں جاتا، لیکن مرنے والوں کو اپنی زندگی میں رکھا تو جا سکتا ہے۔ تہمینہ نے اسی لمحے زندگی بھر کا قصہ تمام کر دیا تھا کہ وہ اب زندہ رہے گی صرف اور صرف آصف کی منگیتر بن کر وہ اسی کی رہے گی چاہے اس سے اس جہان میں ملے۔اس دنیا کی تنہائی آصف کی یاد سے بہلائے گی۔لیکن وہ کنواری ہی رہے گی۔
کاشف اور تہمینہ کی اس واقعہ کے بعد کبھی ملاقات تو نہ ہو سکی،لیکن کاشف کو پتہ چل گیا کہ تہمینہ کیساتھ ایسا ہو چکا ہے۔کاشف کی بیوی کو جب ان ساری باتوں کا علم ہوا تو اس نے کاشف سے کہا کہ آپ تہمینہ کو گھر بلائیں ۔ میں اسے اپنی چھوٹی بہن بنانا چاہوں گی اور اس کے غم میں شرکت کر کے اپنے حصے کاغم بانٹنا چاہوں گی۔
اس بات میں قطعی کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور باقی تمام مغربی دنیا ریاستِ خلافت کے قیام کی بھرپور مخالفت کریں گے، کیونکہ 1924ء میں خلافت کے انہدام سے لے کر انہوں نے ہرممکن کوشش کی ہے کہ خلافت کبھی بھی واپس نہ آسکے۔وہ ہرسطح پر یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ مسلم دنیا میں خلافت کی بحالی کا کام کرنے کے لئے سیاست کے میدان میں کسی کو بھی کوئی موقع نہ مل پائے۔لیکن مسلمانوں کی گردنوں پر سوار بدترین جابرانہ حکومتیں مسلط کرنے کے باوجود بھی خلافت کے قیام کی پُکار نہ صرف مسلم دنیا کے ہرکونے میں مضبوطی سے اپنے قدم جمانے کے قابل ہوچکی ہے بلکہ اب یہ پوری اُمت کا مطالبہ بھی بن چکی ہے۔ لہٰذا ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ خلافت کی پُکار کودبانے، ختم کرنے اوراسے مٹا دینے کے لئے ہرطرح کانسخہ آزما لینے کے باوجود بھی ، استعماراور ان کی کٹھ پُتلی حکومتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی ہیں اور یہ اس لئے کہ یہ پُکار اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دین کی طرف پُکار ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے رسول محمدﷺ کے ذریعے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ خلافت دوبارہ عین نبوت کے نقشِ قدم پرضرور قائم ہوگی۔
اس کے علاوہ ہم پچھلی دودہائیوں میں یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ امریکہ نے افغانستان کے مسلمانوں پر عالمی جنگ برپا کئے رکھی۔ ہم اسے عالمی جنگ کیوں کہہ رہے ہیں؟ اس لئے کہ ایک طرف تو اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ نیٹو تھا اورمسلمانوں کے کٹھ پُتلی حکمرانوں کی فوج اور انٹیلی جنس پر مبنی معاونت شامل تھی جبکہ دوسری طرف افغانستان کے نہتے مسلمان تھے۔ افغانستان کے پاس کوئی باقاعدہ فوج نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بھی ان ہلکے معمولی ہتھیاروں سے لیس مسلمانوں نے پوری دنیا کے لئے یہ ناممکن بنا دیا کہ وہ ان پر غلبہ پاسکیں بلکہ آخر میں وہ بُری طرح شکست کھانے کے بعدذلیل ورُسوا ہوکرافغانستان سے نکلے۔ یہی ایک مثال ہی اس بات کی دلیل کے لئے کافی ہے کہ خلافت کے قیام کے بعد ، اگرپوری دنیا مل کر بھی اس کے خلاف عالمی جنگ چھیڑدے وہ اسے شکست دینے کے قابل ہونا تو دَرکنار، وہ پاکستان میں قائم ہونے والی خلافت کے خلاف مقابلہ کرنے کی ہمت بھی نہ کرپائیں گے۔
خلافت کے قیام کے بعد، کفارہرگز ریاستِ خلافت کے خلاف عالمی جنگ کرنے کے قابل نہ ہوسکیں گے۔ فروری 2012ء میں امریکہ کے سیکرٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے ویسٹ پوائنٹ کیڈٹس کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا، کہ امریکہ کے لئے یہ انتہائی غیردانشمندانہ بات ہوگی کہ وہ کبھی دوبارہ ، عراق یا افغانستان جیسی ایک اور جنگ میں سرکھپائے ، اور یہ کہ اس انداز میں دوبارہ حکومت تبدیل کر دینے کے امکانات بہت کم ہیں۔رابرٹ گیٹس نے کہا:" میری رائے میں ، مستقبل میں آئندہ اگرکوئی سیکرٹری دفاع ،صدر کو دوبارہ ایک بڑی امریکی بَرّی فوج کوایشیا یامشرقِ وسطیٰ یا افریقہ بھیجنے کا کہتا ہے تو اس سیکرٹری دفاع کو 'اپنے دماغ کا علاج کرانا چاہئے' جیسا کہ جنرل میک آرتھر نے بھی کہا تھا“۔
“In my opinion, any future defense secretary who advises the president to again send a big American land army into Asia or into the Middle East or Africa should ‘have his head examined,’ as General MacArthur so delicately put it.” (Robert Gates)
رابرٹ گیٹس نے فوجی کیڈٹس کے اجلاس کے دوران یہ کہا تھا۔لہٰذا درج بالا بیان کی روشنی میں اگر امریکہ اپنی فوج کو کسی قلیل سے گروہ سے جنگ کرنے کے لئے بھی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ یا افریقہ بھجوانے پر راضی نہیں ہے تو پھر آخرکیسےامریکہ اور باقی تمام دنیا پاکستان میں قائم ہونے والی خلافت پرحملہ کرنے کی جرأت بھی کرسکیں گے، جبکہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس پہلے سے دنیا کی چھٹےنمبرپربڑی فوج موجود ہے جوکہ ثابت شدہ نیوکلئیرصلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی صورت میں مؤثر ہتھیاروں سے لیس ہے؟ یادرہے کہ اس زبردست فوجی طاقت کے علاوہ، ریاستِ خلافت کے پاس لاکھوں کی تعداد میں رضاکار مجاہدین بھی موجود ہوں گے۔
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ ، روس کے ساتھ یوکرائن میں براہِ راست نہیں اُلجھ رہا بلکہ وہ روس کے خلاف پراکسی وار لڑرہاہے۔اگرچہ روس اس مقام پر نہیں ہے کہ عالمی تجارت میں مداخلت کرسکے، لیکن پھر بھی سپلائی چین اس بُری طرح متأثر ہو رہی ہیں کہ تیل اور دیگرضروریاتِ زندگی کی قیمتیں انتہائی حد تک بڑھنے کی وجہ سے یورپ کے لوگوں نے یوکرائن میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنا شروع کردیاہے۔ روس سے موازنہ کریں تو پاکستان خلیج فارس کے متصل واقع ہے اور مغرب سے مشرق کےاطراف تجارتی جہاز بحیرۂ عرب میں عین پاکستان کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ لہٰذا دنیا کسی قیمت پر پوری عالمی تجارت کو نقصان پہنچانے کا اتنا بڑا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔
لیکن بہرحال ان تمام مشکلات کے باوجود، پھربھی اگرمغرب پاکستان پر حملہ آور ہونے کی ہمت کربھی لے تو وہ ہرگز ایسا کرنے کے قابل نہ ہوسکے گا۔ افغانستان پر ہونے والے حملہ کو یادکریں تو امریکہ کبھی بھی ہمسایہ ممالک، جیسے پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان پر حملہ نہ کرسکتا تھا۔ چونکہ افغانستان کے پاس سٹریٹجک اور جدید ہتھیار موجود نہ تھے اس لئے امریکہ نے آسانی سے اپنی فوج افغانستان میں منتقل کردی اور آس پاس کے ہمسائیوں سے بغیر کسی دِقّت وخطرہ کے سپلائی روٹ قائم کرلئے۔ لیکن پاکستان کے معاملہ میں ، امریکہ کو وہی سہولت دوبارہ فراہم نہ ہوسکےگی جیسی افغانستان پر حملہ کے وقت میسرتھی۔اور اگر امریکہ خطہ میں کسی ہمسایہ ملک کی حمایت لے بھی لے تو پاکستان اپنے جدید نیوکلئیر ہتھیاروں کی وجہ سے کسی بھی امریکی جارحیت کا آسانی سے مقابلہ کرنے کے قابل ہے۔ پس جس طرح آج امریکہ روس کے نیوکلئیرہتھیاروں کے خوف سے یوکرائن کے تنازعہ میں براہِ راست کُود پڑنے سے ہچکچارہا ہے بالکل اسی طرح امریکہ ، نیوکلئیرہتھیاروں سے لیس پاکستان میں قائم خلافت پرحملہ کرنے کے بارے میں سوچنے کی بھی جرأت نہ کر سکے گا۔
آج پاکستان کی قیادت ، ایک شکست خوردہ قیادت ہے جو ہرحالت میں امریکہ اور اس کے عالمی آرڈر کی چاپلوسی اورغُلامی کرنا چاہتی ہے۔ یہی رویہ امریکہ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے پاس دنیا کی چھٹے نمبر پر بڑی اور نویں نمبر پر مضبوط ترین فوج موجود ہونےکے باوجود پاکستان پر حکم چلائے اور جب ضرورت سمجھے تو اس پر حملہ آوربھی ہوجائے کیونکہ اسے یہ یقین ہے کہ امریکہ کو پاکستان سے کبھی بھی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ امریکہ صرف اُسی ملک پر حملہ کرتا ہے جہاں اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ملک عالمی نظام کا غلام ہے اور ایک آسان شکار ہے۔ اور جہاں کہیں امریکہ کو یہ یقین ہو کہ مخالف ملک جوابی کاروائی کے ساتھ اقدامی حملہ بھی کرسکتا ہے تو امریکہ ایسے ملک پر حملہ کرنے کے بارے میں کبھی جرات بھی نہیں کرسکتا۔
یادرہے کہ 1949 میں عوامی جمہوریہ چین نے کونسا نظام نافذ کردیا تھا۔اُس وقت امریکہ اور روس (USSR) میں شدید مخالفت آرائی جاری تھی اور یہ امریکہ کے مفاد کے لئے شدید نقصان دہ تھا کہ وہ ایک اور کمیونسٹ ملک کے قیام کو قبول کرلے۔ لیکن آخر ایسی کیا بات تھی کہ امریکہ ، چین پر حملہ کرنے کی ہمت بھی نہ کرسکا حالانکہ چین اپنے ملک کے داخلی معاملات ، اندرونی پھُوٹ اور بیرونی قبضوں کی وجہ سے خاصا کمزور تھا ؟ یہ اس لئے کہ امریکہ کو یہ معلوم تھا کہ چین کے پاس اب ایک ایسی قیادت ہے جوایک خاص نظریہ رکھتی ہے اور وہ نظریہ چین کی ریاست کو امریکی جارحیت کا بھرپُور جواب دینے کے قابل بنادے گا۔ اسی طرح اگر پاکستان خلافت کو قائم کرلیتا ہے جو کہ اسلام کی بنیاد پر قائم ریاست ہو گی توامریکہ کسی بھی قسم کی جارحیت کی ہرگز ہمت نہ کرسکے گا۔
لہٰذا یہ محض ایک خام خیالی ہے کہ اگر خلافت کادوبارہ قیام پاکستان سے ہوتا ہے تو پوری دنیا ہم پر حملہ آور ہوجائے گی اور ایک عالمی جنگ چھڑجائے گی۔ کفار ہمارے دلوں میں خوف کا بیج بونا چاہتے ہیں تاکہ ہم پاکستان میں خلافت کے دوبارہ قیام کے لئے جدوجہد نہ کریں ، اور دنیا کے ساتھ ساتھ ہمارے علاقوں میں بھی امریکی اجارہ داری یونہی جاری وساری رہے۔ عراق وافغانستان میں ناکام مہم جوئیوں کے بعدیہ قطعی ممکن نہیں کہ امریکہ کبھی ایک نیوکلئیرہتھیاروں سے مسلح ملک یعنی پاکستان پر حملہ کے بارے میں سوچ بھی سکے گا۔ لہٰذا ہمیں ہرحالت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور نبوت کے نقشِ قدم پر خلافت کو قائم کر دینا چاہیئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اِنۡ يَّنۡصُرۡكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَـكُمۡۚ وَاِنۡ يَّخۡذُلۡكُمۡ فَمَنۡ ذَا الَّذِىۡ يَنۡصُرُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِهٖؕوَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾
"اگراللہ تمہاری مدد کرے گا توکوئی تم پرغالب نہ ہوگا اور اگر وہ(اللہ) تم کوچھوڑدے گا توپھرکون ہے کہ اس کے بعد تمہاری مدد کرے۔ اور مسلمانوں کو اللہ پرہی بھروسہ کرنا چاہئے“ (آل عمران؛ 3:160)
اس وقت جبکہ بھارت میں جی20سربراہی کانفرنس کی تیاریا ں جاری ہیں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں متعین بھارت کے سابق گورنرستیا پال ملک کے ایک انٹرویو میں کئے گئے انکشافات عالمی سطح پہ ایک موضوع بن گئے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میںاگست 2018 سے اکتوبر 2019 تک گورنر متعین رہنے والے ستیا پال ملک نے انڈین میڈیا آرگن '' دی وائر'' کے صحافی کرن تھاپر کو دیئے گئے ایک تفصیلی وڈیو انٹرویو میں بھارتی حکومت اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سازشیانہ کردار کے بارے میں انکشاف کیا کہ اس کا مقصد پلوامہ واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پہ ڈالتے ہوئے مودی حکومت اور' بی جے پی ' کو انتخابات میں فائدہ پہنچانا تھا۔ امریکہ کے سرکاری نشریاتی ادارے ' وائس آف امریکہ' نے اپنی رپورٹ میں ستیا پال ملک کے اس انٹرویو کے حوالے سے لکھا کہ '' مودی نے انہیں کہا تھا کہ وہ چپ رہیں اور کسی کو نہ بتائیں۔ اسی طرح قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے بھی ان سے کہا کہ وہ خاموش رہیں اور اس بارے میں بات نہ کریں۔
ستیا پال ملک کا کہنا تھا کہ وہ اس کے بعد فوری طور پر سمجھ گئے تھے کہ اس کا مقصد پاکستان پر الزام لگانا اور حکومت اور بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچانا ہے''۔ستیا پال نے انٹرویو میں کہا کہ ' سی آرپی ایف' کے قافلے کی حفاظت کے لئے غیر معمولی سنگین نوعیت کی غفلت سے متعلق امور کی نشاندہی پہ وزیر اعظم مودی نے انہیںخاموش رہنے اور یہ باتیں کسی کو نہ بتانے کو کہا۔سیکورٹی ایڈوائزر اجت ڈوول نے بھی بات کرنے پہ انہیں چپ رہنے کی ہدایت کی۔ستیا پال ملک نے بتایا کہ میں نے محسوس کر لیا کہ پلوامہ واقعہ کی ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈالی جائے گی اس لئے اس معاملے میں خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ ستیا پال نے کرن تھاپر کے اس سوال کہ یہ ایک طرح سے حکومت کی ایک چالاک پالیسی تھی جس کا مقصد پاکستان پر الزام لگانا تھا؟ تو ستیا پال نے جواب میں کہا کہ بالکل۔
پلوامہ میں' سی آر پی ایف' کے قافلے پر حملے کا ایسا کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا کہ جو بھارتی ایجنسیوں نے خود کرایا تا کہ اس طرح کے واقعات کو پاکستان کے خلاف سفارتی اور سیاسی سطح پہ استعمال کیا جا سکے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے جعلی مقابلے، جن میں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد فائرنگ سے قتل کرنے کے بعد اعلان کیا جا تا ہے کہ یہ فوج سے مسلح لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں،اسی طرح بھارتی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں اجتماعی قتل عام کے ایسے متعدد واقعات میں ملوث ہیں جس کا مقصد کشمیریوں کی آزادی کی مزاحمتی تحریک اور پاکستان کے خلاف سیاسی اور سفارتی مفادات حاصل کرنا ہوتا ہے۔
ایسا ہی ایک بڑا واقعہ چھٹی سنگھ پورہ کا ہے جس میں بھارتی فوجیوں نے امریکہ کے صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت سے تین دن پہلے 20 مارچ2000 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گائوں چھٹی سنگھ پورہ میں35سکھو ں کو قطار میں کھڑا کر کے فائرنگ سے ہلاک کر دیا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق چھٹی سنگھ پورہ کے دو گوردواروں میں سکھ اپنا مذہبی تہوار منانے کے لئے اکٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بھارتی فوجی گاڑیاں گائوں میں داخل ہوئیں اور بھارتی فوج کی وردیوںمیں ملبوس افراد نے موقع پہ موجود سکھوں کو قطار میں کھڑا کر کے فائرنگ سے ہلاک کر دیا۔عینی شاہدین نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ قتل عام کے بعد فوجیوں نے بھارت کے حق میں نعرے بھی لگائے۔سکھوں کے قتل عام کے اس واقعہ کے فوری بعد بھارت نے اس واقعہ کے حوالے سے پاکستان کے خلاف شدت سے پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی۔
امریکہ کی سابق سفارت کار اور 1997 سے 2001 تک وزیر خارجہ کے عہدے پہ متعین رہنے والی میڈلین البرائٹ کی کتاب '' مائیٹی اینڈ دی آلمائٹ: ریفلیکشنز آن امریکہ، گاڈ اینڈ ورلڈ افیئرز (2006)'' کے تعارف میں ہلیری کلنٹن نے لکھا کہ چھٹی سنگھ پورہ کا قتل عام ہندو عسکریت پسندوں نے کیا ۔بھارتی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل کے ایس گل کے مطابق بھارتی فوج کے چند افسران جو جعلی مقابلوں میں ملوث رہے، وہ معمول کی چیکنگ کے لئے چھٹی سنگھ پورہ جاتے رہے تھے اور سکھوں کو مکمل معلومات کے حصول کے بعد ہی قطار میں کھڑا کر کے ہلاک کیا گیا۔
بھارتی حکومت کی طرف سے فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک آزادی اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں کی جانے والی متعدد سازشوں میں جولائی1995میں مقبوضہ کشمیر میں چھ مغربی سیاحوں کے اغوا کا واقعہ ہے جسے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایک فرضی تنظیم الفاران کے نام سے اغوا کرایا۔امریکی روزنامہ ' 'نیو یارک ٹائمز'' کے 13اپریل2012 کے شمارے میںہیتھر ٹمونز کی شائع رپورٹ میں بھارتی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی اس مکروہ سازش کو بے نقاب کیا گیا جس کا مقصد کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر پروپیگنڈہ مہم چلانا تھا۔ہیتھر ٹمونز اس رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ 1995میں کشمیروادی میں چھ مغربی سیاحوں کو اغوا کرنا ہندوستانی حکام کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھا تا کہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت یافتہ مزاحمتی تحریک کو دہشت گردی کے طور پر پیش کرتے ہوئے دنیا کو پاکستان کے خلاف سخت روئیہ اپنانے کی جانب راغب کیا جا سکے۔
اس رپورٹ میں'' دی میڈو'' نامی کتاب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جو ایڈرین لیوی اور کیتھی سکاٹ کلارک کی طویل تحقیق کے بعد لکھی گئی۔انہوں نے مغربی سیاحوں کے اغوا کے واقعہ کے بعد جنوبی ایشیا میں کئی سالوں تک تحقیق کرنے کے بعد یہ کتاب تحریر اور مرتب کی۔اس میں سینکڑوں انٹرویو، جرائد، سرکاری فائلوں اور نقول کو بھی شامل کیا گیا 500صفحات پہ مشتمل اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مغربی صحافیوں کو چھڑانے کی کوششوں میںبھارتی فوج کے اعلی افسران اور انٹیلی جنس سروسز میں کچھ سینئر شخصیات ایک بڑی رکاوٹ تھے۔کتاب نئی دہلی حکام کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ایڈرین لیوی اور کیتھی سکاٹ کلارک کو حکومت کشمیر کے سیکورٹی ایڈوائزر کے ساتھ کام کرنے والے ایک پولیس سیکورٹی اہلکار الطاف احمد نے بتایا کہ مغربی صحافیوں کے آپریشن میں تمام امور نئی دہلی سے کئے جا رہے تھے اور کشمیر میں موجود حکام صرف آلہ کار کے طورپر استعمال ہو رہے تھے۔کتاب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ جرمن ڈرک ہیسرٹ کے اغوا کے بارے میں اطلاع دینے والی خاتون کی بھارتی فوج کے افسر نے عصمت دری کی اور فوج نے پولیس کو تلاشی کی کاروائی سے روکے رکھا۔ اس کے علاوہ اغوا کاروں کے چنگل سے بھاگ نکلنے والے سیاح نے فوج کو کہا کہ وہ اس جگہ کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ جہاں اغوا کرنے والے اور مغربی سیاح موجود ہیں لیکن بھارتی فوج نے کوئی کاروائی کرنے کے بجائے اس سیاح کو فوری طور پر ملک سے نکال دیا۔
کتاب کی رپورٹ کے مطابق، کرسمس کے موقع پر، 1995 میں، چار بقیہ یرغمالیوں کو مٹی گاوران کے نچلے گائوں کے پیچھے بھاری، گہری برف میں لے جایا گیا، گولی مار کر دفن کر دیا گیا، قتل کے ایک عینی شاہد نے کہا۔ کتاب کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان کے لیے صرف ایک ہی انجام تھا اور ہم سب جانتے تھے۔ انہوں نے کہا، کوئی بھی فورسز کی یونیفارم اور سپیشل ٹاسک فورس کی جیپوں کو دیکھ کر یرغمالیوں کی رہائی اور ملی بھگت کی شکایت کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔انسداد دہشت گردی کے ماہرین کو فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرف سے کشمیر بھیجا گیا۔ اس ٹیم میں شامل جان ایف برنز نے مئی 1996 میں کشمیر میں لکھا کہ''کوئی بھی اس بات کا یقین نہیں کر سکتا کہ اغوا کار، جو خود کو الفاران کہتے ہیں، حقیقی باغی ہیں یا، جیسا کہ بہت سے معروف کشمیری گوریلا کہتے ہیں، ہندوستانی حمایت یافتہ باغی ہیں جو پوری تحریک کو بدنام کرنے کے لیے نکلے ہیں''۔



.jpg)

